وطنِ عزیز پاکستان کو معرضِ وجود میں آئے سات دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر چکامگر ابھی تک وہ مقاصد حاصل نہیں ہو سکے، وہ امیدیں پوری نہیں ہو سکیں جن کی خاطرہمارے بزرگوں نے علیحدہ مملکت کا خواب دیکھا تھا اور جدوجہد سے اس کو حاصل کیا تھا۔ میرے خیال میں ہماری ناکامی کی سب سے بڑی وجہ تواس عہد سے روگردانی ہے جو ہم نے قیام پاکستان کے وقت کیا تھا کہ ہم اپنی علیحدہ مملکت میں اسلام کا نظام نافذ کریں گے، بانی پاکستان حضرت قائداعظم کا فرمان تھا کہ پم نے یہ ملک اس لیے حاصل کیا کہ اسے اسلام کی تجربہ گاہ بنا سکیں، ۔ ہمارے اکابرین تو قیام پاکستان کے فورا" بعد دنیا سے رخصت ہوتے گئے مگر ہمیں آج تک قیام پاکستان کے مقاصد کو سمجھنے والی اور اس عہد کی پاسداری کرنے والی قیادت میسر نہ آسکی۔
موجودہ سیاسی حکومت تین سال پہلے کےعام انتخابات کے بعد تبدیلی کے بلندو بانگ دعووں اور زوردار نعروں کے نتیجے میں اقتدار میں لائی گئی، سچ تو یہ ہے کہ عوام ایک عرصے سے تبدیلی کے خواہشمند تھی اور تبدیلی لانے کے دعوے داروں سے امیدیں لگا کرانھیں موقع دے بیٹھی، مگر انھیں تبدیلی نظر تو آئی مگریہ تبدیلی ترقی معکوس کی انتہائی بھیانک شکل میں ملی، مہنگائی،بدعنوانی اور چور بازاری کے ستر سالہ ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں اور لوگ بیچارے ہکابکا ایک دوسرے سے اور حکمرانوں سے سوال پوچھتے ہیں کہ کیا یہ تھی وہ تبدیلی جس کا بھولی بھالی عوام کو جھانسا دیا گیا تھا؟ اور اس سے بھی زیادہ قابلِ افسوس حکومت کے کارندوں اور وزیروں، مشیروں کا انتہائی مضحکہ خیز اور احمقانہ رویہ ہےجس سے وہ انتہائی بھونڈے انداز سے اپنی نااہلیوں اور حماقتوں کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں۔
اگر صحیح معنوں میں ہم نے اپنے حالات میں تبدیلی لانی ہے تو اس کا واحد حل ہے کہ ہمیں اپنے اس فرسودہ نظام کو تبدیل کرنا ہوگا اور یہ تب تک تبدیل نہیں ہوگا جب تک ہم اپنے موجودہ سیاسی،جمہوری اور اقتصادی ڈھانچے کو اسلامی ںظام میں نہیں ڈھالیں گے، یہی وقت کا تقاضا، یہی آخری حل اور یہی قیام پاکستان کے مقصد کی تکمیل اور ہماری دنیاوی و اخروی بقا کا ضامن ہے۔
میری رائے ہے کہ جب تک اسلام کے نظام عدل کا مکمل نفاذ نہیں ہوتا تب تک ہم اس کی راہ ہموار کرنے کےلیے اپنے موجودہ جمہوری پارلیمانی ساخت میں ہی تبدیلیاں لے آئیں،۔ ملک میں موجودہ انتخابی نظام کے تحت جب حکومت سازی کے لیے وفاقی اور صوبائی کابینہ کی تشکیل کی جائے تو وزارتیں قومی و صوبائی اسمبلی کے ممبران کی بجائے اگرہلیت کی بنیاد پر اس مخصوص شعبے کے متعلق قابل اور ایماندار اور اس میدان کے ماہر افراد کو دی جائیں تو امید ہےیہ اقدام نظام کی خوشگوار تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔مثال کے طور پر پانی و بجلی کا وزیر کسی سیاستدان کی بجائے اس شعبے کا ماہرتجربہ کار الیکٹریکل انجینئر لگادیاجائے جوتکنیکی اورانتظامی امور کا بھی ماہر ہو، ہمارے ملک میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے اور ملک کے لیے مخلصانہ ظور پر خدمات انجام دینے کے لیے بھی لوگ موجود ہیں مگر موجودہ بددیانت ںظام ان کی راہ میں حائل ہے، ۔لہٰذا ہر متعلقہ وزارت میں اس شعبے کے ماہر افراد کو ہی تعینات کیا جانا چاہیے۔
علاوہ ازیں معاشرے میں تبدیلی لانے کا سب سے موثر طریقہ یہ ہے کہ ہر فرد اپنے اندر تبدیلی لائے، انفرادی تبدیلی ہی اجتماعی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔اگر ہم میں سے ہر شخص معاشرتی بگاڑ کا رونا رونے کی بجائے اپنے افعال و کردار میں مثبت تبدیلی لانے کی کوشش کرے تو بہت جلد پورا معاشرہ ایک خوشگوار تبدیلی محسوس کرےگا۔ ہم اگر اپنے تئیں یہ عہد کریں کہ زندگی کے ہر موڑ پر جھوٹ، بددیانتی، بداخلاقی اور دھوکہ دہی سےاجتناب کریں، ہرطبقہ اپنے فرائض خوش اسلوبی سے ادا کرے تو یہ تبدیلی بہت جلد آگے چل کر نظام کی تبدیلی کا باعث بنے گی، ویسے بھی بہ حیثیت مسلمان ہمارا دینی فریظہ بنتا ہے کہ اسلام کو اگر مکمل ضابطہ حیات مانتے ہیں تو اس کے اصولوں پر عمل پیرا بھی ہوں، اگر عشق رسولﷺ کا دعویٰ ہے تو آپ کی سنتوں کی پیروی بھی کی جائے۔

1 Comments
Thank you brother.
ReplyDelete